واشنگٹن، مقبوضہ بیت المقدس / 26 نومبر (آئی این ایس انڈیا) اسرائیل انسانی حقوق واچ کے کسی نمائندے کو ملک سے بے دخل کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اسرائیل اور فلسطین سے متعلق ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر عمر شاکر کو پیر کے روز ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے انہیں ملک سے نکالنے کے حکومتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔شاکر پر فلسطینی قیادت کی جانب سے چلائی جانے والی اسرائیل کے بائیکائٹ سے متعلق تحریک کی حمایت الزام عائد کیا گیا ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔اتوار کے روز انہوں نے کہا کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے اور بیرون ملک سے اسرائیل اورفلسطینی علاقوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں لکھتے رہیں گے۔انسانی حقوق کا گروپ ہیومن رائٹس واچ اور شاکر اسرائیل سے ان کے اخراج کی طویل قانونی جنگ اس جواز کے ساتھ لڑ چکے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی کوئی حمایت نہیں کی ہے۔نیویارک میں قائم گروپ نے کہا ہے کہ وہ سرمایہ کاری اور اقتصادی پابندیوں سے متعلق بین الاقوامی بائیکاٹ کی فلسطینی قیادت کی تحریک بی ڈی ایس کی حمایت نہیں کرتا۔انسانی حقوق کے گروپ ہیومن رائٹس واچ کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کہتے ہیں کہ ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ وابستگی کے اپنے تمام عرصے میں عمر نے تنظیم کے موقف کو واضح طور پر برقرار رکھا ہے اور ہم بی ڈی ایس کی حمایت نہیں کرتے۔ اس لیے اسرائیلی حکومت کبھی بھی کوئی ایک بھی ایسا ثبوت پیش نہیں کر سکی جس میں عمر نے ہیومن رائٹس واچ کے موقف سے انحراف کیا ہو۔ہیومن رائٹس واچ کا موقف یہ ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے جانا چاہیے اور اپنے عرب شہریوں کو وہی حقوق دینے چاہئے، جو وہ اسرائیلیوں کو دیتا ہے۔2017 کا ایک اسرائیلی قانون کسی بھی ایسے غیر ملکی کو داخلے، ویزے یا رہائش کی اجازت سے انکار کرتا ہے جو اسرائیل یا اس کے کنٹرول کے کسی علاقے، یعنی اسرائیلی بستیوں کے بائیکاٹ کی تحریک کی حمایت کرتا ہے۔ اس قانون کو اس سال کے شروع میں اسرائیل اور مغربی کنارے میں امریکی قانون سازوں، رشیدہ طلیب اور الہان عمر کے داخلے پر پابندی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔عمر شاکر کا کہنا ہے کہ اس قانون کو انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو اظہار رائے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔عمر شاکر کہتے ہیں کہ میرے معاملے میں جو کچھ ہوا اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے میں پیش آیا ہے جب اسرائیلی حکومت انسانی حقوق کی وکالت کو دبانے کی دوسری بہت سی کوششیں کر رہی ہے، جن کا آغاز ان قوانین سے ہوا جن میں لوگوں کو اپنی رائے کے پرامن اظہار کی بنا پر اسرائیل میں داخلے کی ممانعت کی گئی ہے۔